ما ورائے آئین اقدامات احساس محرومی میں اضافے کا سبب بنیں گے، اے این پی
*کوئٹہ (bnc.pk)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری مابت کاکا نے کہا ہے کہ آئین تمام شہریوں کی بنیادی انسانی حقوق کی تحفظ کا ضمانت دیتا ہے آزادی اظہار رائے بنیادی حقوق کا اہم جز ہے ماورائے آئین گرفتاریوں اور جبری گمشدگیوں سے نہ ماضی میں اور نہ اب کی بار مطلوبہ نتائج اخذ کئے جاسکیں گے لہذا اگر کسی پر کوئی بھی الزام ہے بھی تو انہیں ملک کی عدالتوں میں پیش کیا جائے رشیدہ بی بی اور ان کے خاوند محمد رحیم زہری کو لاپتہ کرنا انتہائی تشویش ناک اور صوبے کے اقدار وروایات پر بدنما داغ رہیگا ان جیسے ماورائے آئین عملیات احساس محرومی اور احساس بیگانگی میں مزید اضافے کا موجب بنے گا پشتون قوم اور باالخصوص عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت اور کارکن خود گزشتہ کئی دہائیوں سے مسلط شدہ انتہاپسندی دہشت گردی کا شکار ہے لہذا جس درد کرب سے آج بلوچ قوم گزررہی ہے شاید ہم سے بڑھ کر اس کا احساس کوئی رکھتا ہو عوامی نیشنل پارٹی بلوچ مسنگ پرسنز کے اہل خانہ کے دکھ درد میں برابر کے شریک ہے اور اس کیلئے ہر فورم پر آواز اٹھانا اپنا فرض سمجھتی ہے ان خیالات کااظہار انہوں نے باچاخان مرکز کوئٹہ میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چئیر مین نصراللہ بلوچ کی قیادت میں آئے ہوئے وفد کے ارکان سے بات چیت کے دوران کیا وفد میں زبیر بلوچ، آغا سلام شاہ، ماما عبدالغفار، متاثرہ فیملی اور ان کے بچے شامل تھیں اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری سید عبدالباری آغا ضلعی صدر جمال الدین رشتیا رکن مرکزی کمیٹی جمیل گلستان ضلعی جنرل سیکرٹری نذرعلی پیر علی زئی باری داد ترین اور دیگر بھی موجود تھے چئیر مین نصراللہ بلوچ نے رشیدہ بی بی اور ان کے شوہر رحیم زہری کی اغوا بارے تفصیل سے بتایا اس موقع پر کہا گیا کہ عوامی نیشنل پارٹی شروع دن سے پرامن جمہوری سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے اور آئین میں حاصل ان تمام حقوق پر عمل درآمد کا مطالبہ کرتی چلی آرہی ہے جو بنیادی انسانی حقوق سے متعلق ہے بد بختانہ حکمران اشرافیہ آئین پر عمل درآمد سے انکاری ہے جس سے ملک سیاسی اور معاشی عدم استحکام کا شکار چلا آرہاہے عوامی نیشنل پارٹی کے ذمہ داران نے*
