اسکولوں سے قبضے واگزار، نئے تعلیمی سال سے قبل درسی کتب فراہم کی جائیں، ڈی سی
*کوئٹہ (بی این سی نیوز) ڈپٹی کمشنر کوئٹہ شہک بلوچ کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کوئٹہ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریوینو کوئٹہ ثنا ماہ جبین، ایڈیشنل کمشنر جنرل کوئٹہ خلیل مراد،اسسٹنٹ کمشنر سٹی کوئٹہ عطاءالمنیم،اسسٹنٹ کمشنر کچلاک وقار کاکڑ کے علاو¿ہ تمام ڈی او ایز،ڈی ڈی آئی اوز میل و فیمیل،کوارڈئینٹر آر ٹی سی ایم کوئٹہ، منیجر یونیسیف سی ایس پی کوئٹہ اور محکمہ تعلیم کے دیگر فیلڈ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ شہک بلوچ نے محکمہ تعلیم اور تمام فیلڈ افسران کی رپورٹس کا جائزہ لیا اور تعلیم کی بہتری،متاثرہ اسکولوں کی تعمیر و مرمت سمیت قبضہ مافیا کیخلاف کارروائی کے لیے مختلف امور زیر بحث آئے۔ اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ کوئٹہ کے جن اسکولوں کو سیلاب اور بارشوں سے نقصان ہوا ہے ان کی تعمیر و مرمت کا کام جلد از جلد مکمل کیا جائے جبکہ جن اسکولوں پر قبضہ ہے ان کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لاتے ہوئے قبضہ ختم کرایا جائے۔ اس سلسلے میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو کوئٹہ کی سربراہی میں ایک ٹیم تشکیل دی گئی جو کہ ان کا قبضہ مافیاز کیخلاف کارروائی کر کے اسکول واگزار کرکے محکمہ تعلیم کے حوالے کرے گی۔ اس کے علاوہ جن اسکولوں میں تعمیر و مرمت کا کام باقی ہے انہیں جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ سیلاب اور بارشوں سے کوئٹہ کے 272 اسکولوں کو نقصان ہوا ہے جن میں ہنہ اوڑک، کچلاک اور میاں غنڈی کے زیادہ تر اسکول شامل ہیں، ان اسکولوں میں تعمیر و مرمت کا کام تیزی سے جاری ہے جبکہ 32 اسکولوں پر قبضہ کیا گیا ہے جن کے خلاف انتظامیہ کارروائی کرے۔ اجلاس میں فیلڈ افسران کو تاکید کی گئی کہ وہ وقتاً فوقتاً دورے کریں تاکہ تعلیمی اداروں کے مسائل کاحل اور اساتذہ کی حاضری یقینی بنائی جاسکے۔اس حوالے سے فیلڈ افسران ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کو رپورٹ بھی ارسال کرتے جائیں۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ شہک بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ اسکولوں کی تعمیر و مرمت کا کام جلد از جلد مکمل اور قبضہ مافیا کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائےجبکہ جن اسکولوں میں کام میں رکاوٹ اور تعطل ہیں ان کو دور کر کے جلد از جلد کام پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اسکولوں میں نئے تعلیمی سال شروع ہونے سے قبل کتابوں کی ترسیل کا عمل بھی مکمل کیا جائے۔انہوں نے کہاکہ ہماری تمام تر توجہ تعلیم کی بہتری پر مرکوز ہونی چاہیئے اساتذہ کی تعیناتی اوراساتذہ کی غیر حاضری برداشت نہیں کرینگے۔ جہاں اساتذہ کی کمی ہے وہاں اساتذہ کی کمی کو پورا کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم کے تمام ملازمین اور اساتذہ کے بنیادی مسائل حل کرنا ہماری اولین ترجیح ہے تعلیمی اداروں کی بہتری اور طلباءو طالبات کو سہولیات کی فراہمی ہر صورت ممکن بنائینگے۔اجلاس میں تعلیمی افسران اساتذہ طلبا وطالبات کے مسائل و مشکلات پر بھی گفت و شنید ہوئی۔ جس میں تعلیم کی مزید بہتری کے لیے لائحہ عمل طے کیا گیا
۔*
