ظرف اور حکمرانی
تحریر: محمد عظیم خان کاکڑ
ظرف پیدا کر سمندر کی طرح
وسعتیں، خاموشیاں، تنہائیاں
اسٹینلے لین پول نامی مصنف کی کتاب "سلادین: اینڈ دی فال آف دی کنگ ڈم آف جروسلم" میں سلطان صلاح الدین ایوبی کی 55 سالہ شاندار زندگی پر بحث موجود ہے۔ 1173 کی جنگ ہاتین میں کیسے صلیبیوں اور عیسائیوں کو شکست دے کر بیت المقدس حاصل کیا گیا۔ مورخین لکھتے ہیں کہ برطانوی بادشاہ رچرڈ، جرمن بادشاہ فریڈرک باربروسا اور فرانسیسی بادشاہ فلپ دوےم نے کئی لاکھ فوجیوں کو بیت المقدس حاصل کرنے کے لئے اکٹھا کیا۔ پہلے پہل اس فوج نے مسلمانوں کے اکرا قلعہ پر قبضہ حاصل کیا اور مطالبہ کیا کہ بیت المقدس، اس پر موجود مقدس صلیب اور تاوان (کفارہ، جرمانہ) دیا جائے تب اکرا قلعہ چھوڑ دیا جائے گا۔ اس قلعے میں مسلمانوں کی بیوہ عورتیں اور یتیم بچے تھے جسے صلیبیوں نے بے رحمی سے قتل کیا۔ یوں تیسری صلیبی جنگ ہوئی۔ سلطان صلاح الدین ایوبی کی اعلی ظرفی پر تاریخ لکھتی ہے کہ ایک بار میدان جنگ میں برطانوی بادشاہ رچرڈ کا گھوڑا زخمی ہو کر مر گیا اور وہ میدان جنگ میں بغیر گھوڑے کے لڑ رہے تھے تو سلطان صلاح الدین ایوبی نے اپنے ایک سپاہی کو اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اپنا گھوڑا رچرڈ کو دے دو۔ رچرڈ یہ رویہ دیکھ کر حیرت زدہ رہ گیا۔ یوں ایک بار رچرڈ بیمار پڑ گئے اور سلطان صلاح الدین ایوبی کو پتہ چلا۔ آپ نے تحفے بھیجے اور جلد صحت یابی کا پیغام بھیجا۔ اکثر اوقات ہم بڑے لوگوں سے ایک دعا سنتے ہیں کہ اللہ تعالٰی دشمن دے تو وہ بھی ظرف والا ہو۔ سلطان صلاح الدین ایوبی یقینی طور پر اعلی ظرف انسان تھے۔ آپ کہا کرتے تھے "کسی قوم کو بغیر جنگ کے ہرانا ہو تو اس کے نوجوانوں میں فحاشی پھیلا دو"۔ ایک اور موقع پر کہا "جب حکمران اپنی جان کی حفاظت کو ترجیح دینے لگے تو وہ قوم و ملک کے آبرو کی حفاظت کے قابل نہیں رہتے"۔
منصب، عہدے اور طاقت سے ہی انسان کا اصل ظرف معلوم کیا جاسکتا ہے۔ کہتے ہیں کہ محمود غزنوی نے اپنے دربار میں فردوسی جیسا شاعر، البیھقی جیسا عالم، البیرونی جیسا سکالر اور مورخ بطور مشیر رکھا تھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ 58 سالہ زندگی میں انہی قابل مشیروں کے سبب محمود غزنوی نے ہندو متعدد حکمرانوں کو دہلی سے ملتان اور کابل سے پشاور تک عبرتناک شکست دی۔ محمود غزنوی کی فوج کا سپہ سالار ہندو تھا جس کا نام تلاک تھا۔ ایک بار راہزنی کے جرم میں جب ایک گورنر نے محمود غزنوی کا حکم ماننے سے انکار کیا تو محمود غزنوی نے تلاک کو حکم دیا کہ گورنر کو قتل کر کے اس کا سر مجھ تک پہنچا دو۔ اور تلاک نے حکم کی تعمیل کی۔ محمود غزنوی کے اہم کارناموں میں سومنات بت کا خاتمہ شامل ہے۔ مشہور مورخین فرخی سیستانی اور گردیزی لکھتے ہیں کہ سومنات مندر میں پڑے بت وہی ہیں جن کے تھوڑنے کا حکم فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا۔ یہ بت "لات، منات اور عزا" کے نام سے یاد کئے جاتے ہیں۔ ان دو مورخین کے مطابق زیادہ گمان یہی ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر "منات" بت چوری کر کے وہاں منتقل کیا گیا جہاں بت پرستی عام تھی اور یہ علاقہ گجرات ہے جوکہ ہندوستان میں موجود ہے۔
عین اسی طرح محمود غزنوی اپنے دربار میں ایک خاص مشیر ایاز سے بہت زیادہ متاثر تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ایاز کے ساتھ دربار میں موجود دیگر وزیر و مشیر حسد رکھتے تھے۔ ایک بار ایاز شاہی قلعے کے عقب میں موجود اپنے چھوٹے سے کمرے پر گئے تو دیگر مشیر محمود غزنوی کے پاس آئے اور ایاز کی شکایت کر دی کہ ایاز آپکے دربار سے ہمیشہ کچھ چرا کر فلاں کمرے کے ایک صندوق میں چھپا دیتا ہے۔ بادشاہ محمود نے ان مشیروں سے کہا کہ اس بار ایسا ہو تو مجھے اطلاع دی جائے۔ مگر جب ایاز اپنے کمرے میں گیا اور مشیر بادشاہ کو لیکر گئے تو بادشاہ اور مشیر حیرت زدہ رہ گئے۔ اس لئے کہ اس کمرے کے صندوق میں ایک جوڑا پرانے کپڑے اور جوتوں کے سوا کچھ نہ تھا۔ بادشاہ نے پوچھا! ایاز یہ کیا ہے! تو ایاز نے جواب دیا "بادشاہ سلامت یہ میری اوقات ہے، جبکہ کبھی میرے میں غرور یا تکبر آتا ہے تو میں اس کمرے میں آکر اپنے پرانے کپڑے اور جوتے پہن لیتا ہوں"۔ یہ سن کر محمود غزنوی دیگر مشیروں کو مخاطب کر کے کہنے لگا کہ امید ہے ایاز پر میرے اعتماد کی وجہ آپ لوگ جان چکے ہونگے۔ یقینی طور پر ایاز بڑے ظرف والا انسان تھا۔
اب بات کریں ٹیپو سلطان کی جن کا اصل نام فتح علی خان تھا اور میسور کے شہزادے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ انھیں میسور کا شہزادہ اس لئے کہا گیا کہ انہوں نے ایک شیر کا قتل کیا۔ فرنگیوں کے خلاف 1767، 1780 اور 1798 میں تین جنگیں لڑی۔ فرنگیوں کے خلاف پہلی لڑائی 18 سال کی عمر میں لڑی۔ معروف مصنفہ کیٹ بریٹل بنک اپنی کتاب "ٹائگر: دی لائف آف ٹیپو سلطان" میں 49 سالہ شاندار زندگی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ جب فرنگیوں نے ٹیپو سلطان کے قلعے کا محاصرہ کیا تو انگریز جنرل حارث نے کہا تھا: "ہندوستان اب ہمارا ہے"۔ اس جملے کے جواب میں ٹیپو سلطان نے کہا تھا "شیر کے ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے"۔ ٹیپو سلطان ہفت زبان حکمران کہا جاتا ہے۔ آپ کو عربی، فارسی، اردو، فرانسیسی، انگریزی سمیت کئی زبانوں پر دسترس حاصل تھی۔ آپ مطالعے کے بہت شوقین تھے اور ذاتی کتب خانے کے مالک تھے جس میں کتابوں کی تعداد کم و بیش 2000 بیان کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ آپ سائنسی علوم میں خاصی دلچسپی رکھتے تھے۔ آپ کو برصغیر میں راکٹ سازی کا موجد کہا جاتا ہے۔ 1782ء میں والد حیدر علی کی کینسر سے موت کے بعد ٹیپو سلطان نے میسور کے حکمران کے طور پر ان کی جگہ لی۔ حیدر آباد ریاست کے نظام الدین اور مرہٹوں نے ٹیپو کی طاقت کو اپنی بقا کے لیے خطرہ سمجھا اور انگریزوں سے اتحاد کر لیا جس پر ٹیپو سلطان نے نظام الدین کو ایک نصیحت پر مبنی خط بھی لکھا۔ ظرف ایسا کہ سلطان ہونے کے باوجود اپنی مملکت کو "مملکت خداداد" کا نام دیا، حکمران ہونے کے باوجود خود کو عام آدمی سمجھتے تھے۔ باوضو رہنا اور تلاوتِ قرآن آپ کے معمولات میں سے تھے۔ ظاہری نمودونمائش سے اجتناب برتتے تھے۔ ہر شاہی فرمان کا آغاز بسم اللہ الرحمن الرحیم سے کیا کرتے تھے۔ زمین پر کھدر بچھا کر سویا کرتے تھے۔ بیشک جب تک مسلمان حکمرانوں کا ظرف اونچا تھا ہم آدھی دنیا پر حکومتیں کرتے رہے مگر جب ظرف گرا تو ہم زوال کی اندھیر
ی راہ پر آئے۔
